تہذیب، تاریخ اور شناخت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابلِ برداشت۔۔۔ رفیق راتھر
سرینگر 29 اپریل:
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر لیڈر اور ضلع صدر بارہمولہ محمد رفیق راتھر نے اپنے ایک بیان میں اردو زبان کے ساتھ جاری امتیازی سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اردو نہ صرف ہماری تہذیب، تاریخ اور مشترکہ شناخت کی نمائندہ زبان ہے بلکہ ریاست جموں و کشمیر کی سرکاری زبانوں میں بھی شامل ہے، اس کے باوجود مختلف محکموں اور اداروں میں اسے نظر انداز کیا جانا انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکار اہم اور سنجیدہ معاملات پر افسوسناک حد تک بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جو کہ ناقابلِ قبول ہے۔ محمد رفیق راتھر نے واضح کیا کہ اردو کے ساتھ ناانصافی دراصل ہماری تہذیبی وراثت اور اجتماعی شناخت کے ساتھ ناانصافی ہے، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو زبان صدیوں سے برصغیر کی ادبی، ثقافتی اور سماجی روایت کی امین رہی ہے اور اس کی ترویج و تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے ریاستی حکومت کے حالیہ فیصلے پر بھی شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جس کے تحت اردو کو ریونیو شعبے سے خارج کیا گیا ہے، وہ ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ، تہذیب اور تمدن کے ساتھ ایک کھلواڑ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے نہ صرف عوامی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ لسانی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اردو زبان کے وقار کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ سرکاری دفاتر میں اردو کے استعمال کو یقینی بنایا جائے، تعلیمی اداروں میں اس کی ترویج کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جائے اور اردو اساتذہ و ماہرین کو مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ اس زبان کا فروغ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے خصوصی مہمات چلائی جائیں اور نصاب میں اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔
رفیق راتھر نے زور دے کر کہا کہ زبانوں کے ساتھ امتیازی رویہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے، تاکہ ہماری ثقافتی شناخت اور لسانی وراثت محفوظ رہ سکے۔
